نہیں — یہ قطر کے تجارتی کمپنیز قانون کے تحت غیر قانونی ہوگا۔ دفعہ 13 صراحتاً بیان کرتی ہے کہ کمپنی کے معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل نہیں کی جا سکتی جو کسی شریک کو منافع میں اس کے حصے سے محروم کرے یا اسے نقصانات برداشت کرنے کی ذمہ داری سے بری کرے۔ ایسی کوئی بھی شق باطل اور ناقابلِ نفاذ تصور کی جائے گی۔
تاہم، ایک محدود استثناء موجود ہے: یہ جائز ہے کہ کسی ایسے شریک کے لیے، جو صرف محنت (کام) کا حصہ ڈالتا ہو — نہ کہ سرمایہ — یہ شرط رکھی جائے کہ وہ نقصانات میں شریک نہ ہو، بشرطیکہ اسے اس کام کے عوض کوئی مقررہ تنخواہ ادا نہ کی جا رہی ہو۔ یہ استثناء ایک محنت کار شریک کی شراکت کی مختلف نوعیت کو تسلیم کرتا ہے۔
اگر کمپنی کے معاہدے میں منافع اور نقصانات کی تقسیم کے بارے میں کوئی وضاحت نہ ہو، تو دفعہ 14 ایک پہلے سے طے شدہ اصول فراہم کرتی ہے: ہر شریک کا منافع اور نقصان میں حصہ سرمایے میں اس کے حصے کے تناسب سے ہوگا۔ اگر معاہدے میں صرف منافع کا حصہ متعین ہو، تو وہی تناسب نقصانات پر بھی لاگو ہوگا، اور اس کے برعکس بھی۔ اس لیے بہترین عمل یہی ہے کہ بانی معاہدے میں منافع اور نقصانات کی ترتیبات واضح طور پر بیان کی جائیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی کاروباری انتظام کو ناجائز طریقے سے ترتیب دیا جا رہا ہے، تو قطر کے لائسنس یافتہ وکیل سے فوری قانونی مشورہ حاصل کریں۔
یہ عام قانونی معلومات ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورتحال کے لیے قطر-لائسنس یافتہ وکیل سے مشورہ کریں۔