جی ہاں، قطر میں عقدِ نکاح مکمل کرنے سے قبل طبی سند قانونی طور پر لازمی ہے۔ قطر کے قانونِ خاندان کی دفعہ 18 کے تحت دونوں فریقین کو کسی مجاز طبی ادارے کی جانب سے جاری کردہ طبی سند پیش کرنی ہوگی۔ اس سند میں اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے کہ دونوں افراد موروثی امراض اور ایسی دیگر بیماریوں سے پاک ہیں جو فریقین کے درمیان یا ان کی اولاد میں منتقل ہو سکتی ہوں۔
یہ شرط قطر میں طے پانے والی تمام شادیوں پر لاگو ہوتی ہے، بشمول بیرون ملک مقیم افراد کی شادیوں کے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل کی خاندانی زندگی کو متاثر کرنے والے صحت سے متعلق معاملات میں دونوں فریقین کے درمیان شفافیت اور باخبر رضامندی یقینی بنائی جا سکے۔ عقدِ نکاح کا مصدِّق (نوٹری) اس دستاویز کے بغیر معاہدے کی تصدیق نہیں کرے گا۔
بیرون ملک مقیم افراد کو چاہیے کہ وہ طبی سند کسی تسلیم شدہ قطری سرکاری صحت مرکز یا منظور شدہ نجی طبی مرکز سے حاصل کریں۔ بہتر ہوگا کہ پہلے سے متعلقہ اتھارٹی — جیسے وزارتِ عدل یا مقامی دفترِ تصدیقِ نکاح — سے دریافت کریں کہ کون سے ادارے قابلِ قبول ہیں اور سند کتنے عرصے تک معتبر رہتی ہے۔ مطلوبہ طبی معائنہ مکمل کرنے کے لیے اپنی مجوزہ تاریخِ نکاح سے کافی پہلے وقت نکالیں۔
یہ عام قانونی معلومات ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورتحال کے لیے قطر-لائسنس یافتہ وکیل سے مشورہ کریں۔